Darja sadisa Hall Shuda Parcha jat – حل شدہ پرچہ جات درجہ سادسہ PDF

Hall-Shuda-Parcha-jat-Darja-6

10 year Darja Sadisa 6th Hal shuda parcha jaat Darja sadisa – حل شدہ پرچہ جات درجہ سادسہ for Wifaq ul madaris Al arabia pakistan.

You can read all Questions and answers and Also Download in PDF. It’s Totally free Books website

. You can Download All darja Books and shorohat. 6th year Hal shuda parcha Darja sadisa has 530 pages. and also available index page (fahrist).

Darja sadisa Read Online or Download

حل شدہ پرچہ جات درجہ ثانیہنام
العالیہ دوم سادسہ للبنیندرجہ
530صفحات
حضرت مولانا محمد یسین شاکر صاحبمرتب
مکتبہ زکریامکتبہ
کتاب کا تعارف

آیت کا شان نزول

جب تم نے ایک آدمی کوقتل کیا پھر اس کو ایک دوسرے پر ڈالنا چاہ رہے تھے

(اس فائر: تم میں اصل تا تفاعل تھی اس کو دال بنا کر دال میں ادغام کر دیا

یعنی تم ایک دوسرے سے جھگڑنے اور دفع کرنے لگے

اور اللہ تعالی کو اس بات کا ظاہر کر نا منظور تھا ( ظاہر کرنا چاہتے تھے ) ،جس کو

تم چھپانا چاہتے تھے، (اس قتل کے معاملہ کو۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور وہ قصہ کا شروع حصہ ہے)

تفصیل شان نزول

سو ہم نے حکم دیا کہ اس کو (یعنی مقتول کو اسکے کسی حصہ سے چھوڑو، (چنانچہ اس کی زبان ی

ا اس کی دم کی جڑ سے چھود یا اور وہ زندہ ہو گیا اور بیان دیا کہ فلاں فلاں اسکے پچازاد بھائیوں نے

مجھ کوقتل کیا ہے۔

اور اس بیان کے بعد وہ مر گیا۔ چنانچہ وہ دونوں میراث سے محروم کر دیئے گئے اور قصاصا قتل کر دیئے گئے

آسے حق تعالی فرماتے ہیں کہ اسی طرح ( اس مردہ کو زندہ کرنے کی طرح) حق تعالٰی مردوں کو زندہ فرمائیں گے،

وہ اپنے نظائر (اپنی قدرت کے دلائل ) تم کو دکھلاتے رہتے ہیں اس امید پر کہ تم مجھے باری سے کام لو غور وفکر کرو)۔

عبارت کی تفسیر

:۔ بنی اسرائیل میں عامیل نامی ایک شخص کو کسی نے قتل کر دیا۔ اور پھر اس قتل کو ایک

دوسرے کے سر تھوپنے لگے وہ کہتا ہے کہ اس نے مارا ہے، اور وہ کہتا ہے کہ اس نے مارا ہے،اور اللہ تعالیٰ

فرماتے ہیں کہ جن امور کو تم اپنے دلوں میں چھپاتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو ظاہر کرنے والے تھے۔

چنانچہ ہم نے ان کے مطالبہ پر اور قاتل کو ظاہر کرنے کے لئے اس بات کا حکم دیا کہ ایک گائے کو

ذبح کر کے اس کی دم یا زبان میت پر رکھ دو وہ زندہ ہو جائے گا۔

اور قاتل کے متعلق خود وہی بتلا دے گا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، مقتول فور زندہ ہو گیا

اور اپنے قاتل بھائیوں کا نام بتا کر دوبارہ مرگیا پھر قاتلوں کو پکڑا گیا اور انہیں قصاصا

قتل کیا گیا اور میراث سے بھی محروم کر دیا گیا۔

اور اسی وقت سے یہ حکم ہو گیا کہ قاتل ہمیشہ میراث سے محروم ہوگا ۔

یہ مردہ کا کلام کرنا اور زندہ ہو کر لوگوں کے سامنے اپنے قاتل کا نام جتلانا خاص ضرورت کی

غرض سے تھا اور اللہ تعالیٰ یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ہم اپنی قدرت کاملہ سے
مردوں کو اسی طرح زندہ فرمائیں گے

درجہ ثانیہ حل شدہ پرچہ جات

Leave a Reply